Breaking News

جشن آزادی کی ایک جھلک

آج الحمدللہ 15 اگست کو یوم آزادی بلوکھ سدھارتھ نگر میں بہت ہی پر امن اور خوبصورت انداز میں منایا گیا۔ کئی بچوں نے “سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” پڑھا اور تین بچیوں نے انگلش زبان میں اپنا انٹروڈکشن پیش کیا اور ساتھ ہی ساتھ دار العلوم اہل سنت مصباح العلوم کے پرنسپل کی انگلش اسپیچ ہوئی اور بعد میں اس کا ترجمہ بھی کیا گیا۔ جس میں علامہ فضل حق خیرآبادی علیہ الرحمہ کے تعلق سے یہ بتایا گیا کہ انہوں نے دہلی کی جامع مسجد میں علماء کو اکٹھا کیا اور بعدِ نمازِِ جمعہ کئی علماء اور دانشوروں کے سامنے تقریر کی اور وہیں پر جہاد کا فتویٰ انگریزوں کے خلاف دیا۔ اسی وجہ سے انہیں کالا پانی کی سزا ہوئی اور جزیرہ انڈمان بھیج دیا گیا اور وہیں پر اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون!

اور دوسری شخصیت علامہ کفایت علی کافی کی تھی۔ ان کی بھی زندگی پر روشنی ڈالی گئی اور یہ بتایا گیا کہ انہوں نے بھی جہاد کا فتویٰ دیا تھا اور کئی جگہوں پر انہوں نے جنرل بخت خان، افضل صدیقی، شیخ بشارت علی، مولانا سبحان علی اور نواب مجد الدین وغیرہ کی معیت میں انگریزوں کو شکست دیا تھا اور اخیر میں 30 اپریل 1858 میں انہیں گرفتار کیا گیا اور جب پھانسی دینے کے لیے لایا گیا، تو پھر برٹش نے پوچھا کہ کیا تمہاری کوئی آخری خواہش ہے؟ تو مولانا کفایت علی کافی نے کاپی اور قلم منگایا اور تحریر فرمایا کہ۔۔۔

کوئی گل باقی رہے گا، نہ چمن رہ جائے گا۔
پر رسول اللہ کا دینِ حسن رہ جائے گا۔

ہم سفیرو باغ میں ہے کوئی دم کے چہچے۔
بلبلیں اُڑ جائینگی سونا چمن رہ جائےگا۔

اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں نہ ہو۔
اس تن بے جان پر خالی کفن رہ جائےگا۔

سب فنا ہو جائینگے کافی و لیکن حشر تک۔
نعتِ حضرت کی زبانوں پر سخن رہ جائے گا۔

اور اس کے علاوہ مولانا محمد حسین تنويری صاحب استاذ دار العلوم ھذا نے بہت ہی خوبصورت انداز میں ایک کلام پیش کیا اور ساتھ ہی گاؤں ہی کے ایک فرد جاوید علی صاحب نے بہت اچھی اسپیچ پیش کی، جس میں انہوں نے دیش کے تعلق سے بہت ساری باتیں بتائی اور اس کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری جاوید علی، محمد ابرار، محمد نوشاد اور محمد طیب وغیرہ نے لی اور کئی بچوں اور بچیوں نے اچھا پرفامنس کیا اور اس میں دار العلوم کے ناظم، نائب ناظم، خزانچی صدر سمیت گاؤں کے بہت سارے نوجوانوں نے شرکت کی اور باہر سے جو مہمان تشریف لائیں وہ موجودہ پردھان ببلو پانڈے اور دو سابق پردھان انیل پانڈے اور سنجے پاسوان، ارجن رائے، ننھےپانڈے اور ستیا ناراین چودھری وغیرہ موجود تھے۔

تحریر : احمد حسین علیمی برکاتی سدھارتھ نگری

About चीफ एडिटर सैफुल्लाह खां अस्दक़ी

I'm Mohammad Saifullah । I'm Founder And National President Of Ghause Azam Foundation (NGO) । I'm Chief Editor Of GAF News Network And Islamic Teacher

Check Also

सभी समस्याओं का समाधान यहां हैः मौलाना मोहम्मद सैफुल्लाह ख़ां अस्दक़ी

*सभी समस्याओं का समाधान यहां हैः मौलाना मोहम्मद सैफुल्लाह ख़ां अस्दक़ी* *अपने परिवार, रिश्तेदार, दोस्त …

2 comments

  1. محفل رضا فیضی

    ماشاءاللہ پورےجی ایف نیوز کا بہت بہت شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *